دوستو، کبھی سوچا ہے کہ ایک چھوٹا سا ملک کیسے اپنی پوری بجلی کی ضرورت خود پوری کر سکتا ہے؟ جی ہاں، یہ کوئی کہانی نہیں بلکہ حقیقت بننے جا رہا ہے۔ جیبوتی، افریقہ کے اس اہم ملک نے 2035 تک توانائی کے شعبے میں مکمل خود انحصاری حاصل کرنے کا ایک بڑا ہدف مقرر کیا ہے۔ میں نے جب اس منصوبے کے بارے میں پڑھا تو مجھے بہت خوشی ہوئی، یہ صرف بجلی پیدا کرنے کا معاملہ نہیں بلکہ ایک پائیدار اور روشن مستقبل کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔ وہ کس طرح شمسی، ہوا اور جغرافیائی حرارتی توانائی جیسے قدرتی ذرائع سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، یہ دیکھ کر واقعی متاثر کن ہے۔ یہ نہ صرف جیبوتی کے لیے بلکہ پورے خطے کے لیے ایک نئی امید کی کرن ہے۔ تو آئیے، اس منفرد اور اہم منصوبے کے بارے میں تفصیل سے جانتے ہیں!
روشن مستقبل کی بنیاد: جیبوتی کا انقلابی سفر

توانائی کی خود مختاری کا خواب
دوستو، میں اکثر سوچتا ہوں کہ کیسے ایک چھوٹا سا ملک اتنے بڑے اہداف مقرر کر سکتا ہے اور انہیں حقیقت میں بدلنے کی جانب گامزن ہو سکتا ہے۔ جب میں نے جیبوتی کے اس عظیم منصوبے کے بارے میں پڑھا، تو میرا دل خوشی سے جھوم اٹھا!
یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ ایک ملک 2035 تک اپنی پوری بجلی کی ضرورت خود پوری کرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔ مجھے یاد ہے کہ ہمارے ہاں بھی بجلی کے مسائل اکثر پریشان کرتے رہتے ہیں، ایسے میں جیبوتی کا یہ اقدام نہ صرف ان کے اپنے لوگوں کے لیے ایک روشن مثال ہے بلکہ ہم سب کے لیے ایک تحریک بھی ہے۔ یہ صرف بجلی پیدا کرنے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک پائیدار اور خودمختار مستقبل کی جانب ایک مضبوط قدم ہے۔ انہوں نے یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ اگر ارادے پختہ ہوں تو کوئی بھی منزل ناممکن نہیں۔ یہ سفر مجھے اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ چھوٹے ممالک بھی بڑے کارنامے انجام دے سکتے ہیں، بس ضرورت ہے ایک واضح وژن اور اس پر عمل کرنے کے عزم کی۔
قدرتی وسائل کا بہترین استعمال
جیبوتی، افریقہ کے اس اہم ملک نے شمسی، ہوا اور جغرافیائی حرارتی توانائی جیسے قدرتی ذرائع سے فائدہ اٹھانے کا جو منصوبہ بنایا ہے، وہ واقعی قابل ستائش ہے۔ میں نے جب یہ تفصیلات پڑھی تو مجھے لگا کہ کاش ہمارے خطے میں بھی ایسے منصوبوں پر تیزی سے عمل کیا جائے جہاں قدرت نے ہمیں بہت سے ایسے وسائل سے نوازا ہے۔ یہ دیکھ کر بہت اچھا لگا کہ وہ صرف ایک ذریعہ پر انحصار نہیں کر رہے بلکہ مختلف ذرائع کو بروئے کار لا کر ایک مضبوط اور متنوع توانائی کا نظام بنا رہے ہیں۔ یہ ان کی دانشمندی اور دور اندیشی کی بہترین مثال ہے۔ میں نے اکثر دیکھا ہے کہ لوگ صرف ایک ہی راستے پر چلتے رہتے ہیں، لیکن جیبوتی نے ہمیں دکھایا ہے کہ لچک اور تنوع ہی ترقی کی کنجی ہے۔ اس منصوبے سے نہ صرف ان کی اپنی ضروریات پوری ہوں گی بلکہ وہ اپنے ہمسایہ ممالک کو بھی بجلی فراہم کرنے کی پوزیشن میں آ سکتے ہیں، جو اس خطے میں امن اور استحکام کے لیے بھی ایک مثبت قدم ہوگا۔
زمین اور سورج سے بڑھتی امیدیں: جیبوتی کی گرین انرجی
شمسی توانائی کا پھیلاؤ
جب میں نے جیبوتی میں شمسی توانائی کے منصوبوں کے بارے میں پڑھا، تو مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا۔ صحرا میں پھیلے ہوئے سولر پینلز کا تصور ہی کتنا دلکش ہے۔ جیبوتی کا سورج جو کبھی صرف گرمی اور تپش کا سبب بنتا تھا، اب وہی ان کے لیے روشنی اور خوشحالی کا ذریعہ بن رہا ہے۔ یہ حقیقت میں قدرت کے ایک بہترین تحفے کا صحیح استعمال ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ جب ہمارے ہاں بھی سولر پینلز لگتے ہیں تو بجلی کے بلوں میں کتنی کمی آتی ہے اور کتنی سہولت ہو جاتی ہے۔ جیبوتی میں یہ بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے، اور اس سے مجھے بہت امید ملی ہے کہ اگر ہم بھی اپنے وسائل کا درست استعمال کریں تو بہت سی مشکلات حل ہو سکتی ہیں۔ وہاں کے لوگ اب زیادہ بجلی اور کم قیمت پر حاصل کر سکیں گے، جو ان کی روزمرہ کی زندگی پر براہ راست مثبت اثر ڈالے گا۔ یہ صرف بجلی نہیں، یہ ایک بہتر معیار زندگی کی بنیاد ہے۔
جغرافیائی حرارتی توانائی کا معجزہ
زمین کے اندر سے نکلنے والی حرارت کو بجلی میں تبدیل کرنا، یہ تو کسی معجزے سے کم نہیں۔ جیبوتی کے جغرافیائی حرارتی توانائی کے منصوبے نے مجھے حیرت میں ڈال دیا ہے۔ میں نے جب اس ٹیکنالوجی کے بارے میں تفصیل سے پڑھا، تو مجھے احساس ہوا کہ دنیا میں کتنی جدید اور پائیدار طریقے موجود ہیں جن سے توانائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ ہمارے ہاں تو بس روایتی طریقوں پر ہی زور رہتا ہے، لیکن جیبوتی نے جرات دکھائی ہے اور زمین کی گہرائیوں میں چھپے اس خزانے کو باہر نکالا ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف انہیں توانائی کی آزادی دے گا بلکہ ماحول کو صاف رکھنے میں بھی مدد دے گا، کیونکہ اس سے کوئی آلودگی پیدا نہیں ہوتی۔ اس سے نہ صرف جیبوتی کی ترقی ہوگی بلکہ پورے خطے کو بھی اس سے فائدہ پہنچے گا۔ مجھے واقعی یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ وہ ٹیکنالوجی اور فطرت کے درمیان ایک بہترین توازن قائم کر رہے ہیں۔
تیز ہواؤں کا ساز اور روشن مستقبل
ہوا سے بجلی بنانے کا جنون
جیبوتی کی تیز ہوائیں جو کبھی صرف ساحلوں پر ریت اڑاتی تھیں، اب وہی ان کے لیے بجلی پیدا کرنے کا ذریعہ بن رہی ہیں۔ یہ سوچ کر ہی کتنی خوشی ہوتی ہے کہ قدرت نے ہمیں ہر طرح کے وسائل سے نوازا ہے۔ جب میں نے وہاں کے ونڈ فارمز کی تصاویر دیکھیں تو مجھے لگا کہ یہ تو کمال ہو گیا!
بڑے بڑے پنکھے تیزی سے گھومتے ہوئے بجلی بنا رہے ہیں، اور یہ سب کچھ ماحول دوست طریقے سے ہو رہا ہے۔ میرا اپنا تجربہ ہے کہ اگر ہم چھوٹے پیمانے پر بھی ہوا سے بجلی بنانے کی کوشش کریں تو یہ کتنا فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ جیبوتی نے بڑے پیمانے پر یہ کر دکھایا ہے، اور اس سے نہ صرف ان کی اپنی ضروریات پوری ہوں گی بلکہ یہ پورے خطے میں پائیدار توانائی کے شعبے میں ایک مثال بن کر ابھرے گا۔ یہ ایک ایسے مستقبل کی نوید ہے جہاں بجلی کی کمی کا مسئلہ ماضی کی بات بن جائے گا۔
پائیدار ترقی اور معاشی استحکام
توانائی کی خود انحصاری کا مطلب صرف بجلی پیدا کرنا نہیں بلکہ یہ پورے ملک کی معاشی ترقی کا باعث بنتا ہے۔ جب ایک ملک اپنی توانائی کی ضروریات خود پوری کرتا ہے تو اس کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر محفوظ رہتے ہیں، اور وہ پیسہ دوسرے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیا جا سکتا ہے۔ میں نے کئی بار یہ سنا ہے کہ بجلی کی کمی کی وجہ سے صنعتیں متاثر ہوتی ہیں، لیکن جیبوتی کے اس منصوبے سے ان کی صنعتیں ترقی کریں گی اور نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ یہ پائیدار ترقی کی ایک بہترین مثال ہے۔ میرے ذاتی خیال میں، یہ ایک ایسا ماڈل ہے جسے دوسرے ترقی پذیر ممالک کو بھی اپنانا چاہیے۔ جب بنیادی ضروریات پوری ہوتی ہیں تو ملک خود بخود ترقی کی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے۔
چیلنجز کا سامنا اور کامیابی کی راہیں
تکنیکی مہارت اور مالی وسائل
دوستو، کسی بھی بڑے منصوبے میں چیلنجز تو آتے ہی ہیں۔ جیبوتی کے اس منصوبے میں بھی تکنیکی مہارت اور مالی وسائل کا حصول ایک بڑا چیلنج رہا ہو گا۔ میں جب ایسے بڑے منصوبوں کے بارے میں سوچتا ہوں تو میرے ذہن میں سب سے پہلے یہ سوال آتا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر ٹیکنالوجی کہاں سے آئی اور اس کے لیے فنڈز کا انتظام کیسے کیا گیا؟ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ لیکن جیبوتی نے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اور اپنی حکومتی پالیسیوں کے ذریعے ان چیلنجز کا مقابلہ کیا۔ یہ مجھے سکھاتا ہے کہ اگر ہم مل کر کام کریں اور مضبوط ارادے کے ساتھ آگے بڑھیں تو کوئی بھی مشکل ہمارے راستے کی رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ مجھے یقین ہے کہ انہوں نے ان مسائل کو حل کرنے کے لیے بہت محنت کی ہو گی اور کئی راتوں کی نیندیں قربان کی ہوں گی۔
مستقبل کی منصوبہ بندی

صرف بجلی پیدا کرنا ہی کافی نہیں ہوتا، اسے لوگوں تک پہنچانا اور اس کے لیے ایک مضبوط انفراسٹرکچر بنانا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ جیبوتی اس بات کو بخوبی سمجھتا ہے۔ وہ صرف توانائی پیدا نہیں کر رہے بلکہ اس کی تقسیم اور استعمال کے لیے بھی بہترین منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ یہ ایک مکمل پیکیج ہے جو پائیداری اور کارکردگی کو یقینی بناتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ ایسے منصوبوں کو طویل مدتی سوچ کے ساتھ ڈیزائن کیا جانا چاہیے تاکہ وہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوں۔ جیبوتی کا یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں کتنے فکرمند ہیں۔ میں اس بات سے بہت متاثر ہوں کہ وہ صرف آج کی نہیں بلکہ کل کی بھی سوچ رہے ہیں اور اسی لیے یہ منصوبہ اتنا کامیاب نظر آتا ہے۔
معاشی تبدیلی اور خطے پر اثرات
علاقائی توانائی کا مرکز
جیبوتی کا یہ منصوبہ صرف ان کے اپنے لیے نہیں ہے بلکہ اس کے پورے خطے پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ جب جیبوتی توانائی کے شعبے میں خود مختار ہو جائے گا، تو وہ اپنے ہمسایہ ممالک کو بھی بجلی فراہم کر سکے گا، جس سے پورا خطہ معاشی اور سماجی طور پر ترقی کرے گا۔ میں نے کئی بار دیکھا ہے کہ علاقائی تعاون سے کتنے بڑے مسائل حل ہو جاتے ہیں۔ یہ ایک مثال ہے کہ کیسے ایک ملک اپنے وسائل کو استعمال کر کے نہ صرف اپنی بلکہ دوسروں کی بھی مدد کر سکتا ہے۔ یہ توانائی کی خود مختاری انہیں علاقائی سطح پر ایک اہم پوزیشن پر لا کھڑا کرے گا۔ یہ ایک ایسے مستقبل کی بنیاد ہے جہاں ترقی اور خوشحالی سرحدوں کی محتاج نہیں ہو گی۔
نئے مواقع اور سرمایہ کاری
توانائی کی خود مختاری سے جیبوتی میں نئے سرمایہ کاری کے دروازے کھلیں گے۔ جب بجلی سستی اور باقاعدہ دستیاب ہو گی تو نئی صنعتیں قائم ہوں گی اور موجودہ صنعتیں ترقی کریں گی۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ جہاں بجلی کا مسئلہ حل ہو جائے وہاں ترقی کی رفتار کتنی تیز ہو جاتی ہے۔ جیبوتی میں اب سرمایہ کاروں کو ایک مستحکم ماحول ملے گا، جو انہیں وہاں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دے گا۔ اس سے نہ صرف جیبوتی کے لوگوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ یہ پورا ملک ایک نئی معاشی ترقی کی جانب گامزن ہو جائے گا۔ یہ ایک ایسا سنہری موقع ہے جو ہر کسی کو نہیں ملتا، اور جیبوتی اس کا بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے۔
جیبوتی کے منصوبے کی ایک جھلک:
| توانائی کا ذریعہ | اہمیت | متوقع شراکت (2035 تک) |
|---|---|---|
| شمسی توانائی | وسیع صحرائی علاقے، سال بھر سورج کی روشنی | معیشت اور صنعت کے لیے بجلی کی فراہمی |
| ہوا کی توانائی | ساحلی علاقوں میں تیز ہوائیں | گرڈ کو اضافی بجلی کی فراہمی، دیہی علاقوں کو بجلی |
| جغرافیائی حرارتی توانائی | زمین کے اندرونی حرارت کے ذخائر | بیس لوڈ پاور، چوبیس گھنٹے بجلی کی دستیابی |
ہمارے لیے سبق: پائیداری کی طرف ایک قدم
ماحول دوست ترقی کا ماڈل
جیبوتی کا یہ منصوبہ صرف بجلی پیدا کرنے کا نہیں بلکہ ماحول کو بچانے کا بھی ایک بہترین ماڈل ہے۔ میں جب دیکھتا ہوں کہ دنیا بھر میں ماحولیاتی آلودگی کتنی بڑھ گئی ہے، تو ایسے منصوبے دل کو سکون دیتے ہیں۔ شمسی، ہوا اور جغرافیائی حرارتی توانائی کے استعمال سے کاربن کے اخراج میں نمایاں کمی آئے گی، جو ہمارے سیارے کے لیے ایک اچھی خبر ہے۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ ہمیں بھی جیبوتی سے سیکھنا چاہیے اور پائیدار توانائی کے ذرائع کو فروغ دینا چاہیے۔ یہ صرف ایک ملک کا نہیں بلکہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے، اور ایسے چھوٹے لیکن اہم اقدامات سے ہی ہم بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ یہ ایک سبز اور صاف ستھرے مستقبل کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔
ایک متاثر کن کہانی
جیبوتی کی یہ کہانی واقعی بہت متاثر کن ہے۔ ایک چھوٹا سا ملک، بڑے خواب اور انہیں پورا کرنے کا عزم۔ یہ نہ صرف ان کے اپنے لیے بلکہ ہم سب کے لیے ایک امید کی کرن ہے۔ میں نے جب اس منصوبے کے بارے میں سوچا تو مجھے لگا کہ اگر ہم بھی اپنے اردگرد موجود وسائل کا صحیح استعمال کریں تو کتنی بڑی تبدیلیاں لا سکتے ہیں۔ یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ کامیابی کا راز بڑے جغرافیائی علاقے یا بڑی آبادی میں نہیں بلکہ مضبوط ارادوں اور محنت میں ہوتا ہے۔ یہ مجھے اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ ہر شخص، ہر ملک، خواہ وہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو، اپنے حصے کا کردار ادا کر کے دنیا کو بہتر بنا سکتا ہے۔ جیبوتی کا یہ سفر ہمیں یہی درس دیتا ہے کہ ناممکن کچھ بھی نہیں۔
글을마치며
دوستو، جیبوتی کا یہ سفر، توانائی کی مکمل خود مختاری کی جانب، محض ایک خواب نہیں بلکہ حقیقت بننے جا رہا ہے۔ ان کی یہ کوشش ہمیں سکھاتی ہے کہ اگر ارادے پختہ ہوں اور ایک واضح وژن ہو، تو وسائل کی کمی بھی رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ مجھے پوری امید ہے کہ یہ انقلابی قدم نہ صرف جیبوتی کے اپنے لوگوں کے لیے خوشحالی اور استحکام کا پیش خیمہ ثابت ہوگا بلکہ پورے خطے کو بھی پائیدار ترقی کی ایک نئی راہ دکھائے گا۔ یہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ اگر ہم اپنی زمین اور فطرت کے عطا کردہ وسائل کا صحیح استعمال کریں، تو ایک روشن اور سرسبز مستقبل ہمارا انتظار کر رہا ہے۔ یہ کہانی ہم سب کے لیے ایک سبق ہے کہ بڑے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے بڑے دل اور مضبوط عزم کی ضرورت ہوتی ہے۔
알아두면 쓸모 있는 정보
1. پائیدار توانائی کے ذرائع، جیسے شمسی اور ہوا کی توانائی، نہ صرف ماحول کو صاف ستھرا رکھنے میں مددگار ہیں بلکہ یہ طویل مدت میں روایتی، مہنگی اور آلودگی پھیلانے والی توانائی سے کہیں زیادہ سستی اور قابل بھروسہ ثابت ہوتے ہیں۔ جیبوتی کا فیصلہ اس بات کی بہترین مثال پیش کرتا ہے کہ کس طرح پائیداری معاشی طور پر بھی فائدہ مند ہو سکتی ہے۔
2. کسی بھی ملک کے لیے توانائی میں خود انحصاری، اس کی معاشی آزادی اور استحکام کی کلید ہے۔ جب ملک کو توانائی کی درآمد پر انحصار نہیں کرنا پڑتا، تو اس کے غیر ملکی زرمبادلہ کے قیمتی ذخائر محفوظ رہتے ہیں، جنہیں تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی ترقی جیسے اہم شعبوں پر خرچ کیا جا سکتا ہے۔
3. جیبوتی کی جغرافیائی حیثیت اسے بحیرہ احمر اور عدن کی خلیج کے سنگم پر ایک اہم تجارتی اور لاجسٹک مرکز بناتی ہے۔ توانائی میں خود کفالت اس حیثیت کو مزید تقویت دے گی اور اسے علاقائی سطح پر ایک اہم توانائی مرکز بننے میں مدد فراہم کرے گی، جس کے علاقائی تعاون پر گہرے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
4. جغرافیائی حرارتی توانائی زمین کے اندرونی حصوں سے مستقل حرارت حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ یہ توانائی چوبیس گھنٹے، موسم کی کوئی پرواہ کیے بغیر، بجلی پیدا کر سکتی ہے، جو جیبوتی کے بجلی گرڈ کے لیے ایک مستحکم اور قابل بھروسہ بیس لوڈ پاور کا ذریعہ فراہم کرے گی۔
5. ہم سب اپنی روزمرہ کی زندگی میں چھوٹے چھوٹے اقدامات کرکے بھی توانائی بچا سکتے ہیں اور ماحول دوست طرز زندگی اپنا سکتے ہیں۔ جیسے غیر ضروری بجلی کے استعمال سے گریز کرنا، توانائی کی بچت کرنے والے آلات کا استعمال، اور ممکن ہو تو شمسی توانائی جیسے متبادل ذرائع پر غور کرنا۔ ہر فرد کا چھوٹا سا تعاون مجموعی طور پر ایک بڑا فرق پیدا کر سکتا ہے۔
중요 사항 정리
جیبوتی 2035 تک اپنی تمام بجلی کی ضروریات کو 100% پائیدار توانائی کے ذرائع سے پورا کرنے کا عظیم ہدف رکھتا ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ شمسی، ہوا اور جغرافیائی حرارتی توانائی جیسے متنوع اور ماحول دوست ذرائع کو بروئے کار لا رہا ہے۔ یہ انقلابی منصوبہ نہ صرف ملک کو توانائی میں خود مختار بنائے گا بلکہ معاشی ترقی کے نئے دروازے بھی کھولے گا، روزگار کے بے شمار مواقع پیدا کرے گا اور پورے خطے میں پائیدار ترقی کے لیے ایک مثالی نمونہ پیش کرے گا۔ یہ جیبوتی کو ایک ایسے روشن مستقبل کی جانب لے جا رہا ہے جہاں توانائی کی کمی ماضی کی بات ہو گی اور خوشحالی ہر گھر کی دہلیز تک پہنچے گی۔
اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) 📖
س: جیبوتی کا 2035 تک بجلی میں مکمل خود انحصاری کا ہدف کیا ہے اور یہ ان کے لیے اتنا اہم کیوں ہے؟
ج: دوستو، جیبوتی نے 2035 تک اپنی تمام بجلی کی ضروریات کو 100 فیصد قابل تجدید ذرائع سے پورا کرنے کا ایک بہت ہی پرجوش ہدف مقرر کیا ہے۔ یہ دراصل ان کے “ویژن 2035” کا ایک اہم حصہ ہے جس کا مقصد ملک کو ایک ترقی پذیر اور پائیدار مستقبل کی طرف لے جانا ہے۔ آپ کو بتاتا چلوں کہ ماضی میں جیبوتی اپنی 50 سے 80 فیصد بجلی پڑوسی ملک ایتھوپیا سے درآمد کرتا تھا، اور باقی انحصار مہنگے ڈیزل جنریٹرز پر تھا جو ماحولیات کے لیے بھی نقصان دہ تھے۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں نے پہلی بار اس کے بارے میں سنا تو سوچا تھا کہ یہ تو بہت بڑا چیلنج ہے، لیکن ان کا عزم واقعی قابل ستائش ہے۔ یہ خود انحصاری ان کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اس سے انہیں توانائی کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے نجات ملے گی، بجلی کی لاگت میں کمی آئے گی جو فی الحال افریقہ میں سب سے زیادہ ہے، اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ ان کی صنعتی ترقی کو فروغ دے گا اور لاکھوں نئی ملازمتیں پیدا کرنے میں مدد کرے گا۔ یہ صرف بجلی کا حصول نہیں، یہ آزادی، ترقی اور ایک بہتر زندگی کی ضمانت ہے۔
س: جیبوتی کن قابل تجدید توانائی کے ذرائع پر کام کر رہا ہے اور ان منصوبوں کی موجودہ صورتحال کیا ہے؟
ج: جیبوتی واقعی ایک بہترین مثال قائم کر رہا ہے کہ کس طرح قدرتی وسائل کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ وہ بنیادی طور پر شمسی، ہوا اور جغرافیائی حرارتی توانائی پر توجہ دے رہے ہیں۔ ستمبر 2023 میں، انہوں نے غوبیٹ ونڈ فارم کا افتتاح کیا جو 60 میگاواٹ بجلی پیدا کرتا ہے!
جب میں نے اس کی تصاویر دیکھیں تو مجھے لگا جیسے صحرا میں امید کی ہوائیں چل رہی ہیں۔ یہ ان کا پہلا بڑا ونڈ فارم ہے اور یہ ملک کی توانائی کی ضرورت میں نمایاں حصہ ڈال رہا ہے۔ شمسی توانائی کے میدان میں، گرینڈ بارا سولر فارم پر کام تیزی سے جاری ہے، جس کا پہلا 25 میگاواٹ کا مرحلہ بیٹری سٹوریج کے ساتھ 2026 کی پہلی سہ ماہی تک فعال ہونے کی امید ہے۔ اس کے علاوہ، امیہ جیبوتی سولر پی وی پارک کے نام سے ایک اور 30 میگاواٹ کا شمسی منصوبہ بھی 2026 تک شروع ہونے کا امکان ہے۔ لیکن جو چیز مجھے سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے وہ ان کی جغرافیائی حرارتی توانائی کی صلاحیت ہے۔ جیبوتی افریقی رفٹ ویلی پر واقع ہے، جس کی وجہ سے جھیل اسال کے قریب ان کے پاس 1.1 گیگاواٹ سے زیادہ جغرافیائی حرارتی توانائی کا بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ ان کا مقصد 2025 تک 50 میگاواٹ جغرافیائی حرارتی توانائی تیار کرنا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ ایک ایسا خزانہ ہے جسے وہ صحیح طریقے سے استعمال کر رہے ہیں۔ بائیو ماس، ٹائیڈل پاور اور گرین ہائیڈروجن جیسے منصوبے بھی ان کی حکمت عملی کا حصہ ہیں، جو یہ دکھاتا ہے کہ وہ واقعی ایک جامع نقطہ نظر اپنا رہے ہیں۔
س: اس بڑے توانائی منصوبے سے جیبوتی کے لوگوں کو کیا فائدہ ہوگا اور دوسرے ممالک اس سے کیا سبق سیکھ سکتے ہیں؟
ج: اس منصوبے کے جیبوتی کے لوگوں کے لیے بہت سے فوائد ہیں، جن میں سے سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ بجلی کی رسائی بڑھے گی۔ 2022 میں صرف 65 فیصد آبادی کو بجلی میسر تھی، اور دیہی علاقوں میں تو یہ شرح 20 فیصد سے بھی کم تھی۔ مجھے یقین ہے کہ یہ منصوبے اس صورتحال کو بدل دیں گے۔ بجلی کی کم لاگت صنعتوں کو فروغ دے گی، جس سے مقامی لوگوں کے لیے نوکریوں کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور ملک کی معیشت مستحکم ہوگی۔ اس کے علاوہ، صاف توانائی کے استعمال سے کاربن کے اخراج میں نمایاں کمی آئے گی، جو ماحولیات کے لیے ایک بہت اچھی خبر ہے۔ ذاتی طور پر، میں سوچتا ہوں کہ یہ ایک بہت ہی پرسکون اور مثبت تبدیلی لائے گا جب ہر گھر، ہر گاؤں کو 24 گھنٹے سستی اور صاف بجلی میسر ہوگی۔ یہ بچوں کو رات میں پڑھنے، چھوٹے کاروباروں کو چلانے اور صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے میں مدد دے گا۔ دوسرے ممالک، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک، جیبوتی سے یہ سبق سیکھ سکتے ہیں کہ پختہ ارادہ، عوامی اور نجی شراکت داری، اور قدرتی وسائل کا صحیح استعمال کیسے ناممکن کو ممکن بنا سکتا ہے۔ یہ ایک روشن مثال ہے کہ کس طرح ایک چھوٹا ملک بھی توانائی کی آزادی حاصل کر کے پائیدار ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ میرے خیال میں یہ ایک بہت ہی متاثر کن کہانی ہے جسے دنیا بھر میں سنانے کی ضرورت ہے۔






